• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 5 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 5 years ago
alisyed : hi frinds 5 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 5 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 5 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 5 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 5 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 5 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 5 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 5 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 5 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 5 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 5 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 5 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 5 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 5 years ago
mansoor ahmad : very good streming 5 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 5 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 5 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 5 years ago
خواہش بجلی کی، دلچسپی ڈیزل میں
[ Editor ] 18-12-2012
Total Views:937
پاکستان میں توانائی کے بحران کا ایک حل تھر کے کوئلے سے بجلی بنانا بتایا جاتا ہے لیکن اس میں اہم سوال یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں کتنی سنجیدہ ہے۔

بدھ کو وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے صوبہ سندھ کے علاقے تھر میں زیر زمین کوئلے سے گیس بنا کر بجلی بنانے کے منصوبے کا باضابطہ افتتاح کیا۔
ڈاکٹر ثمر مبارک نے تین سالوں میں بجلی بنانے کا معاہدہ کیا ہے، جس میں سے دو سال گیس بنانے میں لگ چکے ہیں، انہیں اس تجربے کے لیےکوئلے کے ذخائر کا ایک بلاک دیا گیا تھا۔

تھر کول فیلڈ ایریا میں سرکاری دستاویزات کے مطابق چار کمپنیاں کام کر رہی ہیں، مگر زمینی حقائق کے مطابق صرف ڈاکٹر ثمر مبارک کی ’یو سی جی‘ کمپنی کا ہی کام نظر آتا ہے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کو بریفنگ میں کوئلے سے بننے والی اس گیس کے فوائد سے آگاہ کیا۔ بقول ایک سینیئر صحافی کے ڈاکٹر نے حکومت کو اربوں روپے کمانے کے گُن بتائے۔

ڈاکٹر مبارک نے بتایا کہ اس گیس سے ڈیزل، امونیا گیس اور میتھین سمیت ایک درجن دیگر مصنوعات بھی بنائی جا سکتی ہیں۔

’ایک کیوبک فٹ کوئلے سے ایک بیرل ڈیزل بن سکتا ہے اور کئی سرمایہ کار اس میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں‘۔

سندھ میں کوئلے میں سرمایہ کاری کے لیے چین اور دیگر غیر ملکی کمپنیاں وفاقی حکومت کی جانب سے ضمانتیں چاہتی ہیں۔ ڈاکٹر ثمر مبارک نے وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور ان کے ساتھ موجود وفاقی وزرا کو بتایا کہ ڈیزل کے منصوبے میں سرمایہ کاروں کو کوئی ضمانت نہیں چاہیے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ پچاس فیصد ڈیزل مقامی مارکیٹ اور پچاس فیصد بیرون ملک فروخت کرنے کی اجازت دی جائے۔

وزیر اعظم اور وفاقی وزرا نے ڈاکٹر ثمر کی حوصلہ افزائی کی اور ان سے پوچھا کہ کتنے عرصے میں ڈیزل بنا سکتے ہیں، تو انہوں نے دو سال کا عرصہ بتایا۔

اس موقع پر ڈاکٹر ثمر مبارک نے فنڈز کے اجرا میں تاخیر کی شکایت کی اور بتایا کہ جتنے جلد فنڈز فراہم ہوں گے وہ بجلی کی پیداوار پر کام کر سکیں گے۔

پہلے مرحلے میں آٹھ میگاواٹ بجلی بنائی جائے گی جو منصوبے کی رہائشی کالونی کے لیے مختص ہوگی، اس کے بعد باقی نوے میگاواٹ پر کام ہوگا۔

یاد رہے کہ اس منصوبے کے لیے رقم سندھ کی حکومت فراہم کر رہی ہے، جبکہ اینگرو کمپنی کے ساتھ صوبائی حکومت کی شراکت داری ہے۔
سندھ حکومت نے وزیر اعظم سے چار بنیادی مطالبات کیے، جن میں غیر ملکی کمپنیوں کے لیے وفاق کی ضمانت، کوئلے سے بننے والی بجلی کے فی یونٹ نرخ کا تعین، تھر سے مٹیاری تک ٹرانسمیشن لائن اور ریلوے لائن بچھانے کے مطالبات شامل تھے۔

وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے اس منصوبے پر سست رفتاری کا اعتراف کیا اور ساتھ میں وزیر اعظم کو سندھی میں مخاطب ہو کر کہا کہ ’سائیں خالی ہاتھوں سے کچھ نہ ہوگا، وفاق بھی کچھ نہ کچھ سرمایہ لگائے‘۔

وزیر اعظم راجہ اشرف نے کسی بھی مطالبے کا کوئی جواب نہیں دیا اور صرف اتنا کہا کہ قومی مالیاتی ایوارڈ کے بعد صوبوں کے پاس بھی کافی فنڈز موجود ہیں۔

اینگرو پاکستان کے چیف آپریٹنگ افسر نے کوئلے سے بجلی بنانے کا ایک فوری حل پیش کیا۔ ان کی تجویز تھی کہ فوری طور پر ریلوے لائن بچھائی جائے اور جام شورو تھرمل پاور پلانٹ کو کوئلے پر منتقل کر دیا جائے۔ وفاقی وزیر نوید قمر نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایسا ممکن نہیں۔

چین کی کمپنی سنو سندھ ریسورس کے حکام نے وفاقی حکومت سے ضمانت کے ساتھ سکیورٹی خدشات کا بھی اظہار کیا۔ حکام نے بتایا کہ کراچی میں چین کے سفارتخانے کے قریب دھماکے کے بعد کافی خدشات پائے جاتے ہیں، اور حکومت چینی سرمایہ کاروں کو خصوصی سکیورٹی فراہم کرے۔

وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف اور وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ اپنی تقاریر میں کبھی تھر کو دبئی تو کبھی مستقبل کا یورپ بنانے کی باتیں کر رہے تھے۔ صحرائی ٹیلوں کے درمیان واقعے اس منصوبے کے برابر میں اقلیتی بھیل برادری کا گاؤں بھانبھیو بھیل واقع ہے، جس کے بڑے اور بچے دور سے یہ جشن کا سماں دیکھ رہے تھے، کیونکہ انہیں اس ’ عوامی جلسے‘میں آنے کی اجازت نہ تھی۔

(بی بی سی نیوز)


About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
 جمہوریت پسندوں کا فرض جہاں چند ایک پارٹیوں کا یہ فیصلہ خوش آئند ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف ایک مشترکہ موقف اختیار کرینگے جو واضح طورپر جمہوریت کی کشتی ڈبونے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہاں انتخابی نظام کے حامیوں کیلئے بھی اب وقت .... مزید تفصیل
نیا عسکری نظریہ پاکستان کے نئے عسکری نظریے یا ‘ملٹری ڈاکٹرائین’ پر حالیہ دنوں میں بہت بہت باتیں کی جاچکی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے جمعہ کو کہا کہ ملک کو ایک نئے نظریے کی ضرورت تھی۔ گذشتہ دنوں ذرائع ابلاغ میں آنے والی .... مزید تفصیل
قادری عوامی غیض وغضب کے نمائندہ؟ ڈاکٹر طاہر القادری کا ‘عوامی انقلاب’ تو شاید نہ آ سکا لیکن پچھلے کچھ دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے سیاسی منظر نامے کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔ اسلام آباد میں لانگ مارچ نے تمام سیاسی قوتوں کو .... مزید تفصیل