• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 5 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 5 years ago
alisyed : hi frinds 5 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 5 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 5 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 5 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 5 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 5 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 5 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 5 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 5 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 5 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 5 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 5 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 5 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 5 years ago
mansoor ahmad : very good streming 5 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 5 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 5 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 5 years ago
مصوری سے موسمِ سرما کا استقبال
[ Editor ] 25-12-2012
Total Views:905
کراچی میں موسم ویسے نہیں آتے جیسے ملک کے دوسرے حصوں میں آتے ہیں لیکن جمالیات سے دلچسپی رکھنے والے موسموں کا حساب رکھتے ہیں اور دماغوں سے زیادہ دلوں سے رکھتے ہیں۔

فائن آرٹ پاکستان گیلری کراچی کی ان چند آرٹ گیلریوں میں سے ایک ہے جو جمالیات کے اس پہلو کا بھی خیال رکھتی ہے اور شاید اسی لیے اس نے ’سرما کے افق‘ کے عنوان سے چار ایسے مصوروں کے فن پاروں کی نمائش کا اہتمام کیا جو پاکستان کے جانے پہچانے مصور ہیں۔

محمد علی بھٹی، معظم علی، مقبول احمد اور چترا پریتم کی تیس کے لگ بھگ تصویریں نمائش کا حصہ تھیں۔ ان چاروں مصوروں کی خوبی یہ ہے کہ ان کا انداز اور اسلوب ان کی پہچان کا حوالہ ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ چترا اور مقبول پاکستانی مصوری کا مستقبل ہیں۔

محمد علی بھٹی نے نہ صرف امریکہ میں مصوری کی تعلیم حاصل کی ہے بلکہ وہ وہاں مصوری کی تدریس بھی کرتے رہے ہیں اور اب بھی انسٹیٹیوٹ آف آرٹ اینڈ ڈیزائن، یونیورسٹی آف سندھ جامشورو کے ڈائریکٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

محمد علی بھٹی 1973 سے اس اب تک بیس سے زائد انفرادی اور اس نمائشیں سمیت تیئیس کے لگ بھگ گروپ نمائشیں کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے بہت سی سرکردہ شخصیات کے پورٹریٹ بھی بنائے ہیں۔ وہ سندھ کے شہر حیدر آباد میں، ان کے بقول کوئی اکاون سال پہلے پیدا ہوئے۔ ان کی مصوری تھری رنگوں میں اظہار کرتی ہے اور یہ بات جانے بغیر بھی ان کی تصویروں میں رنگوں کی حرارت اور حرکت کو محسوس کیا جا سکتا ہے شاید یہی وجہ ہے کہ انھیں آئل کلرز سے زیادہ مناسبت محسوس ہوتی ہے۔ اصطلاحی زبان میں انھیں ریلسٹ ایکسپریشنسٹ کہا جا سکتا ہے لیکن جو بات ان کی مصوری کو قابل توجہ بناتی ہے وہ روشنی ہے۔

ایسا لگتا ہے ان کے جغرافیے میں موجود روشنی ان کی روح کی محیط ہے۔ اس نمائش میں بھی ان کی تصویریں اس کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان کی ایک اور نمایاں بات یہ ہے کہ وہ اپنے موضوع کی حقیقی ماہیت کو پس منظر کے رنگوں سے تبدیل کر دیتے ہیں۔
معظم علی کو ماسٹر آف واٹر کلر یا آبی رنگوں کے استاد کے طور پر بھی سراہا گیا ہے۔ وہ کوئی چھپن سال پہلے کراچی میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1982 میں اپنی تصویروں کی پہلی انفرادی نمائش کی اور تب سے اب تک گیارہ انفرادی نمائشیں کر چکے ہیں۔ جن میں امریکہ اور کنیڈا کی نمائشیں بھی شامل ہیں۔

’ماسٹر آف واٹر کلر‘ کے طور پر ان کی مہارت کا اعتراف بھی 2007 میں وٹنی میوزیم نیویارک میں کیا گیا۔ وہ دو کالجوں کے پرنسپل ہونے کے علاوہ آٹھ سال مختلف اشتہاری اداروں میں آرٹ ڈائریکٹر کے فرائص بھی انجام دے چکے ہیں۔ معظم اب امریکہ میں رہتے ہیں۔

عام طور پر کہا جاتا ہے کہ واٹر کلر کے میڈیم میں لچک نہیں ہے اور مصور اس کی حدود کے جال میں پھنس جاتا ہے لیکن اس کے برخلاف معظم کا کہنا ہے کہ انھیں آبی رنگوں میں انتہائی لچک محسوس ہوتی ہے اور ان میں کام کرتے ہوئے وہ اپنی تصویر کو جو موڑ دینا چاہیں دے سکتے ہیں، ’میں گرم کو ٹھنڈے اور ٹھنڈے کو گرم رنگوں کی جگہ یا اس کا الٹ کر سکتا ہوں ایک ساتھ‘۔ اسی طرح ٹیکسچر، لائینز، شیپس یا ہیئت کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہا ان کی تصویروں میں آسانی سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ’میں ان میں جو وجود دکھاتا ہوں مجھے ان کی روحوں تک رسائی ہوتی ہے جیسے کہ تھری عورت اور اس کا مٹکا‘۔

معظم کہتے ہیں تھر کے لوگ روایتی نقوش رکھتے ہیں، ان کے پرکشش لباس اور ہزاروں سال کی وراثت رکھنے والی انڈس سولائزیشن انھیں دوسروں سے منفرد بناتی ہے اور انھوں نے اسی لیے مٹکوں میں پانی بھر کر لاتی ’تھری‘ عورتوں کو مصور کیا ہے۔

میں نے جب ان نمائش میں ان کی تصویریں دیکھیں تو میرے ذہن میں ان کی یہی باتیں تھیں اسی لیے مجھے یہ خیال آتا رہا کیا چوڑیوں کا خاص انداز، زیورات، لباس اور پہناوے کا ڈھنگ ہی تھریوں کی پہچان ہیں یا ان کے نسلیاتی خد و خال اور جغرافیائی حالات کی بخشی ہوئی رنگت اور ہزاروں سال پر محیط دراوڑی بے بسی۔ جہاں تک آبی رنگوں کے استعمال ہر مہارت کا تعلق ہے معظم علی کسی بھی ماہر سے کم نہیں اور ان کی تصویریں وہ تمام جمالیاتی جوہر رکھتی ہیں جس کی توقع کی جا سکتی ہے۔

بی بی سی نیوز

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین