• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 5 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 5 years ago
alisyed : hi frinds 5 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 5 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 5 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 5 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 5 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 5 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 5 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 5 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 5 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 5 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 5 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 5 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 5 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 5 years ago
mansoor ahmad : very good streming 5 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 5 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 5 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 5 years ago
اور خون ریزی
[ imran ali ] 27-12-2012
Total Views:935
اگرچہ شدت پسندی ایک قومی مسئلہ ہے، جس کی بھڑکائی آگ میں خیبر پختون خواہ اور اس کے اطراف واقع علاقے جل رہے ہیں تاہم مختلف النوع مسائل کی، ایک دوسرے پر سے گذرتی فالٹ لائنز پر موجود، کراچی کو جس عسکریت پسندی کا سامنا ہے، اس کی مختلف حرکیات (ڈائنامکس) نے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔

منگل کو اہلِ سُنت والجماعت کے رہنما مولانا اورنگ زیب فاروقی کو اُس شہر میں نشانہ بنا کر حملہ کیا گیا، جہاں دہشت گرد جب چاہیں، ہڑتال کروا کر شہر کو کنارے پر لگا سکتے ہیں۔

اگرچہ مولانا کی حالت خطرے سے باہر ہے تاہم ان کے ساتھ حملے میں نشانہ بننے والے کئی افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئے، ان میں چار پولیس والے بھی شامل ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ پولیس محافظین دہشت گردوں کے لیے نہایت آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں اور متعدد مواقعوں پر دہشت گرد ان کے کے غیر موثر ہونے کو ثابت کرچکے ہیں۔

عجیب بات یہ ہے کہ اب تک ایسا نہیں ہوا کہ جب محافطین کے ردِ عمل میں کوئی حملہ آور مارا گیا ہو۔ اس نوع کے حملے جس بات پر اُکساتے ہیں، وہ اب معمول کا ردِ عمل بن چکے ہیں۔

منگل کو ہونے والے حملے کے بعد مزید قتل، ہنگامے اور اسلحہ کے استعمال نے دن بھر خوف طاری کیے رکھا، اگلے روز، بدھ کو پورا شہر اسی خوف کے سائے تلے بند تھا۔

اس کے علاوہ بھی گذشتہ ہفتے سے شہر میں فرقہ وارانہ ہلاکتوں کا دور دورہ رہا ہے، جس میں شیعہ اور سُنّی، دونوں کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا۔

مسئلہ بالکل واضح ہے: اس شہر میں کہ جہاں اسلحے کی کوئی کمی نہیں، بڑی تعداد میں مسلح لوگ دندناتے پھررہے ہیں۔ ان میں جہادی بھی ہیں، فرقہ وارانہ قاتل بھی، جرائم پیشہ گروہ ہیں تو نسل پرست شدت پسند بھی۔

مزیدِ برآں، کثیر الآبادی والے اس شہر میں ایسے کئی علاقے موجود ہیں کہ جہاں یہ عناصر پناہ لیتے ہیں۔ یہ علاقہ مکینوں میں میں اس طرح گھل مل جاتے ہیں کہ ان میں اور معصوموں میں کوئی ظاہری امتیاز باقی نہیں رہتا۔

ان سب کے لیے آخری نتیجہ ہے مکمل آزادی مگر اس سارے خونی کھیل کے جو بدترین متاثرین ہیں، وہ شہری کہ جن کا کسی سے کوئی تعلق نہیں لیکن پھر بھی مذہبی عقائد کی بنیاد پر یہی لوگ ہدف بنائے جاتے ہیں۔

اس ساری صورتِ حال میں ایک شے جو بالکل غیر واضح ہے وہ ہے ریاست کا ردِ عمل، کچھ علم نہیں کہ وہ شہر کو عسکریت پسندی سے پاک کرنے کے لیے کیا کچھ کررہی ہے۔

بعض پولیس افسران کا خیال ہے کہ شہر میں ہونے والی قتل و غارت ایسی سادہ نہیں کہ جیسے کسی قتل کا بدلہ لینا ہو، یہ منظم آپریشن ہے۔

بہر حال، بات کچھ بھی ہو، پولیس شہر میں عسکریت پسندوں کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اگر ایسا کرلیا جاتا تو اس وقت شہر میں جس پیمانے پر خوں ریزی ہورہی ہے، اسے بڑی حد تک کم کیا جاسکتا تھا۔

ویسے یہاں اس مسئلے کو حل کرنے میں سیاسی آمادگی کا بھی فقدان ہے۔ جب تک کراچی میں عسکریت پسندی ختم کرنے کے لیے پائیدار اور موثر اقدامات نہیں کیے جائیں گے، تب تک خوں ریزی اور تشدد کا یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔

ڈان نیوز


About the Author: imran ali
Visit 4 Other Articles by imran ali >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین