• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 4 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 4 years ago
alisyed : hi frinds 4 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 4 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 4 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 4 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 4 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 4 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 4 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 4 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 4 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 4 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 4 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 4 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 4 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 4 years ago
mansoor ahmad : very good streming 4 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 4 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 4 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 4 years ago
مسلمانوں کی تعداد میں تیز رفتاراضافہ
[ Editor ] 30-12-2012
Total Views:649
امریکہ کے تحقیقی ادارے پیو ریسرچ سینٹر کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مسلمانوں کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کی آبادی ایک ارب ساٹھ کروڑ سے زیادہ ہوچکی ہے، جو دنیا کی آبادی کا تیئس فیصد حصہ ہے۔

یوں مسلمانوں کی تعداد دنیا بھر میں دوسرے نمبر پر ہے، پہلے نمبر پر عیسائی مذہب کے پیروکاروں کی تعداد ہے، جو دنیا کی آبادی کا بتیس فیصد حصہ ہے۔

پیو ریسرچ سینٹر کی یہ رپورٹ جو مذہبی تغیر کو جاننے کے ایک بڑے منصوبے کا ایک حصہ ہے، دنیا کی اسّی زبانوں میں شایع کی گئی ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری میں اُنتالیس ممالک کے چالیس ہزار افراد کا سروے کیا گیا اور اُن سے مختلف سوالات پوچھے گئے۔

پاکستان سمیت گیارہ ممالک میں دو تہائی یعنی چھیاسٹھ فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ دنیا کی کل مسلم آبادی کا تیرہ فیصد حصہ انڈونیشیا میں، گیارہ فیصد ہندوستان اور پاکستان میں اور آٹھ فیصد مسلمان بنگلہ دیش میں رہائش پذیر ہے۔

جبکہ نائجریا، مصر، ایران اور ترکی میں پانچ فیصد اور الجیریا اور مراکش میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا دو فیصد رہائش پزیر ہے، اس طرح مسلمان انچاس ملکوں میں اکثریت میں ہیں۔

اس کے باوجود کہ ہندوستان میں مسلمان بڑی تعداد میں مقیم ہیں لیکن مجموعی آبادی میں ان کا تناسب کم ہونے کی وجہ سے ان کا شماراقلیت میں ہوتا ہے۔

اہم مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد اور ان کے رجحانات کے حوالے سے تیار ہونے والی اس رپورٹ میں کے مطابق عیسائی مذہب کے پیروکار دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس ہندومت کے ماننے والوں کی بڑی تعداد ہندوستان میں ہی رہتی ہے۔

مذکورہ رپورٹ کے مطابق یوں تو تمام مسلمان اسلام کے بنیادی اصولوں پر متفق نظر آتے ہیں، لیکن ان اصولوں کی تشریحات کے حوالے سے ان میں شدید اختلافات موجود ہیں، جو اکثر شدید تصادم کی صورت میں ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔

مسلمانوں کے دو بڑے گروہ میں سے اٹھاسی سے نوے فیصد سنی جبکہ گیارہ سے تیرہ فیصد شیعہ ہیں۔

مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد ایشیا پیسیفک کے علاقے میں مقیم ہے۔

مسلمانوں میں کم عمر افراد بڑی تعداد میں ہیں اور ان میں تئیس سال کے نوجوانوں کی کثرت ہے جبکہ مسلمانوں کے علاوہ دنیا بھر کی دیگر قومیتوں اور مذاہب کے ماننے والوں میں اٹھائیس سال کے افراد کی تعداد زیادہ ہے۔

عیسائی مذہب کے پیروکاروں میں زیادہ تعداد تیس برس کے افراد کی ہے جبکہ ہندومت کے پیروکاروں میں چھبیس سال کے نوجوانوں کی اکثریت ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عرب ممالک میں پینتس سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد مذہبی ہیں، جبکہ وسطی ایشیاء کے مسلم ممالک میں صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔

اُنتالیس مسلم ممالک میں مذہبی عبادات کا رُجحان مردوں میں عورتوں کی بہ نسبت بہت زیادہ ہے۔

افریقہ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیاء کے مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں میں سے دس میں سے آٹھ افراد یہ یقین رکھتے ہیں کہ اُن کی زندگی میں مذہب انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

جبکہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے مسلمانوں میں دس میں سے چھ افراد مذہب اہمیت دیتے ہیں۔

وسطی ایشیاء اور سابقہ سوویت یونین کی مسلم اکثریتی آبادی والے علاقوں کے پچاس فیصد افراد مذہب کو اپنی زندگی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ مطابق دنیا بھر کے تریسٹھ فیصد مسلمانوں کا یقین ہے کہ اسلام کی محض اُسی طرز پر تشریح کی جاسکتی ہے، جس طرز پر وہ یقین رکھتے ہیں۔
بی بی سی

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
انڈونیشیا : بارش کیلئے ایک دوسرے کو کو ڑے مارنے کی وحشیانہ رسم این جی ٹی…دنیا بھر میں مختلف قسم کی رسمیں ادا کی جاتی ہیں جو منفرد اور دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ بعض اوقات تکلیف دہ بھی ہو تیں ہیں۔ انڈونیشیا کے بعض دیہی علاقوں میں بھی ایک ایسی ہی سالانہ وحشیانہ رسم .... مزید تفصیل
بدلتا ہوا سعودی عرب سعودی عرب کے ایک معروف مذہبی عالم نے مرد و خواتین کی مخلوط محفلوں اور ان کے مختلف امور کے حوالے سے رابطوں کے خلاف بیان دیا ہے۔ گزشتہ روز نماز جمعہ سے قبل مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز الشیخ نے اپنے خطبے .... مزید تفصیل
کاروبار کی فکر بچوں کی فلموں میں رکاوٹ بھارتی فلمی صنعت کو سو سال پورے ہونے والے ہیں۔ ان سو برسوں میں فلم نے کئی رنگ بدلے لیکن ایک چیز بالکل نہیں بدلی اور وہ یہ کہ بچوں کے لیے پہلے بھی کم فلمیں بنتی تھی اور آج بھی کم ہی فلمیں بنتی ہیں۔ شاید .... مزید تفصیل