• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 5 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 5 years ago
alisyed : hi frinds 5 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 5 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 5 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 5 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 5 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 5 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 5 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 5 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 5 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 5 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 5 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 5 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 5 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 5 years ago
mansoor ahmad : very good streming 5 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 5 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 5 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 5 years ago
ایک کروڑ سال قدیم بندر کی باقیات
[ Editor ] 30-12-2012
Total Views:704
ڈومینکن ریپبلک میں گہرے پانی میں غوطہ خوری کے دوران ایک غار سے بندر کی ایک نایاب نسل کی باقیات ملی ہیں۔ سائنسدان ان باقایات کا معائنہ کر رہے ہیں۔

محقیقین کا کہنا ہے کہ یہ باقیات تقریباً تین ہزار سال قدیم ہیں لیکن جس جاندار کی ہیں انتہائی قدیم ہو سکتا ہے۔

اب تک کے معائنے سے یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ باقیات اس علاقے میں بہت عرصہ پہلے پائی جانے والی میمون بندر کی نسل کی ہو سکتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پانی کی گہرائی میں ما قبلِ تاریخ کے اہم راز دبے ہو سکتے ہیں۔

بندر کی ہڈیوں کی باقیات کا مطالعہ کرنے والے نیویارک کے بروکلین کالج کے ڈاکٹر الفرڈ روزن برگ کی تحقیق رائل سوسائٹی جرنل میں شائع ہوئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بندر کا سر تقریباً پورا ہے۔ ’یہ ایک معجزہ ہے کہ غوطہ خوروں نے اسے دیکھ لیا۔ پہلے تو انہیں تو خوف تھا کہ اگر وہ اسے اسے اٹھانے اور لے جانے کی کوشش کریں گے تو ہڈیاں ایک دوسرے سے الگ یا بھربھرا نہ جائیں یا پانی کے ساتھ ادھر اُدھر نہ ہو جائیں، اس لیے انہوں نے غار میں اسے قدرے محفوظ جگہ پر رکھ دیا‘۔

پھر اجازت لے کر اسے غار سے باہر اور اوپر لایا گیا۔ ان کے مطابق بندر کی پوری لمبائی بارہ انچ ہی ہے۔ ’اس کے پاؤں کی ہڈیاں بہت موٹی ہیں۔ اس لیے اس کے پیر بہت موٹے اور مضبوط ہیں۔ اس وقت دنیا میں کوئی ایسا جاندار بندر نہیں پایا جاتا ہے جس کے پیر اس قدر مضبوط ہوں‘۔

ڈاکٹر الفرڈ کے مطابق اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں برس پہلے اس طرح کی جاندار پانی کا طویل سفر کرکے اس علاقے تک پہنچے ہوں گے۔ ’گرچہ یہ خاص ہڈیاں زیادہ پرانی نہیں ہیں لیکن ہمیں پورا یقین ہے کہ ان جانوروں کی یہاں آمد ایک کروڑ سال پہلے ہوئی ہوگی‘۔

’اس کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اگر ان بندروں کے دانتوں کا دوسرے قدیم بندروں سے موازنہ کیا جائے تو ان کی مماثلت ڈیڑھ کروڑ برس پرانی نسل پیٹاگونین سے زیادہ ہو گی‘۔

لندن میں ارضیات سے متعلق سائنسداں سیم ٹرویی کہتے ہیں اس دریافت سے پتہ چلتا ہے کہ کریبین علاقے میں کتنا کچھ ایسا ہے جس سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے، ہمیں اس جانور کے ذریعے ارتقا کے بارے میں جاننے میں کافی مدد مل سکتی ہے‘۔

بی بی سی

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
فرعون رعمیسس سوئم کا سر قلم کیا گیا تھا ماہرین نے ایک نئے فورینزک جائزے کے بعد بتایا ہے کہ مصر کے فرعون رعمیسس سوئم کا سازشیوں نے سر قلم کر دیا تھا۔ فرعون کی لاش کے پہلے سی ٹی سکین سے پتا چلا ہے کہ ان کی گردن پر گہرا زخم ہے جو جان لیوا ہو .... مزید تفصیل
ریل کی سیٹی ہندوستان کی سرزمین پہ سولہ اپریل 1853 کے دن پہلی بار ریل چلی تھی۔ جس طرح پل بنانے والے نے دریا کے اس پار کا سچ اس پار کے حوالے کیا ، اسی طرح ریل کے انجن نے فاصلوں کو نیا مفہوم عطا کیا۔ اباسین ایکسپریس ، .... مزید تفصیل
اسماعیلی اسماعیلی ، اہل تشیع کا ایک تفرقہ ہے جس میں حضرت امام جعفر صادق (پیدائش 702ء) کی امامت تک اثنا عشریہ اہل تشیع سے اتفاق پایا جاتا ہے اور یوں ان کے لیۓ بھی اثنا عشریہ کی طرح جعفری کا لفظ بھی مستعمل ملتا ہے .... مزید تفصیل