• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 4 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 4 years ago
alisyed : hi frinds 4 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 4 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 4 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 4 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 4 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 4 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 4 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 4 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 4 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 4 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 4 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 4 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 4 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 4 years ago
mansoor ahmad : very good streming 4 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 4 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 4 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 4 years ago
نیا سال، پرانا منظر
[ Editor ] 01-01-2013
Total Views:719
اتار چڑھاؤ سے بھرپور اور بے یقینی میں گھرا ایک اور سال بیت گیا۔

بہرحال، سال گذشتہ کے دوران کیے گئے تمام تر دعووں اور پیش گوئیوں کے باوجود سیاست ہو یا معیشت یا پھر سکیورٹی کا محاذ، بہت تھوڑی تبدیلی ہی دیکھنے کو ملی۔

اگرچہ سن دو ہزار بارہ اب تک قریب کھڑا ہے مگر پھر بھی سن دو ہزار تیرہ میں بہت کچھ بدلنے والا ہے۔ یہ سال اس لیے بھی نہایت اہمیت کا حامل رہے گا کہ اس سال پاکستان کے بنیادی اداروں کے سربراہان تبدیل ہوجائیں گے۔

مارچ میں قومی و صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوجائیں گی، ستمبر میں صدرِ مملکت، نومبر میں آرمی چیف اور پھر دسمبر میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس بدل جائیں گے۔

اور اب کچھ بات پاکستان کے فطری عدم استحکام کی۔ سال کے اختتام پر کی جانے والی پیشگوئیوں کا مرکزی موضوع انتخابات اور اس کے تناظر میں پارلیمنٹ کا مستقبل اور صدرِ مملکت ہیں، جن کے لیے سال کے ابتدائی چار ماہ اہمیت کے حامل ہیں۔

اس کے بعد کا نصف غیر منتخب نمائندوں کا ہے۔ پھر جو باقی چار ماہ بچتے ہیں، اس میں وہ آسکتے ہیں کہ جن کا اقتدار دو ہزار تیرہ کے بعد بھی جاری رہے گا۔

سب سے پہلے تو اایک نظر اُس سال پر ڈالتے ہیں جو ابھی ابھی رخصت ہوا ہے۔

سب سے پہلے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے، جو میمو گیٹ، سوئس حکام کو خط، نیٹو سپلائی روٹس کی بندش، کراچی کی بدامنی سمیت مختلف بحرانوں کا سامنا کرتی ہوئی دو ہزار تیرہ میں داخل ہو کر، نہایت کامیابی سے اپنی اقتدار کی پنج سالہ مدت مکمل کرنے والی ہے۔

پہلی منتخب حکومت سے اقتدار کی منتقلی کوئی بڑی بات نہیں، ایسا تو ہوتا ہی ہے مگر یہاں اہم بات یہ ہے اقتدار کی منتقلی منتخب نمائندوں کو ہوگی یا غیر منتخب شخصیات کو۔ یہ واضح ہونا چاہیے کہ آیا ایسا ہونا نہایت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے؟

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ معیشت اور سکیورٹی کے نہایت سنجیدہ اور اہمیت کے حامل محاذ پر پیپلز پارٹی نے جو کچھ کیا، وہ بہت ہی کم ہے۔

ادائیگیوں میں عدم توازن کی بحرانی کیفیت، روپے کی قدر میں مزید کمی کا خدشہ، خطرناک حد تک تیزی سے بڑھتا ہوا بجٹ خسارہ، قابو سے باہر توانائی کا بحران، سامنے کھڑے نئے مالی سال میں آئی ایم ایف کی طرف سے ایک بیل آؤٹ پیکج کا انتظار اور ملکی وسائل سے بے پناہ قرضوں کا حصول۔۔۔ دل دھڑکانے جیسی یہ خطرناک صورتِ حال بنانا ری پبلک یا پھر شاہانہ مغل دور کے طرزِ حکمرانی جیسی ہے ۔

جہاں تک سکیورٹی امور کا تعلق ہے تو اس محاذ پر عسکریت پسندوں سے نمٹنے کے لیے نہ تو سویلین قیادت اور نہ ہی فوج کے زیرِ اثر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ نے عوامی امنگوں کے مطابق کوئی قدم اٹھایا۔

جنرل کیانی ہوں، صدر زرداری یا پھر اسفند یار ولی۔۔۔ وہی پرانی تقریریں رہیں۔ جہاں تک عسکریت پسندی کا تعلق ہے تو اس کا گراف تیزی سے اوپر کی طرف جارہا ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کی بات کریں تو کوئی مزاحمت نظر نہیں آئی۔

دوسری طرف شیعوں کا قتلِ عام جاری رہا، بنوں جیل کو توڑا گیا، مزید ملٹری ائیر بَیس دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے۔

حکومت شہروں اور ضلعوں میں دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کے عمل میں ناکام رہی تو فوج قبئلی علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے خلاف کچھ کرنے کی اہلیت سے عاری نظر آئی۔

جہاں تک حکومت کے کچھ کرنے کی بات ہے تو وہ قانون سازی کے میدان میں نظر آئی۔ انہوں نے فیئر ٹرائل بِل منظور کرایا۔ یہ قانون جتنے مسائل حل نہیں کرسکے گا، اس سے زیادہ کھڑے کردے گا۔

فاٹا اور پاٹا کے لیے ریگولیشن دو ہزار گیارہ منظور کیا گیا۔ یہ قانون غیر قانونی نظر بندی اور قید کو جواز فراہم کرتا ہے جیسا کہ بدنام زمانہ اڈیالہ الیون معاملے میں ہوا تھا۔

جہا ں تک سن دو ہزار بارہ میں فوج کے ایکشن کی بات ہے تو انہوں نے شمالی وزیرستان میں شدت پسندی کے انتہائی بدنام معاملے سے نمٹنے کے بجائے ایک بار پھر ‘اچھے’ اور بُرے’ طالبان میں امتیاز کی کوشش کی۔

یہ ایسی خطرناک کوشش ہے کہ جو سن دو ہزار تیرہ اور اس کے بعد بھی ملک کو انتہائی خطرناک حالات کے بھنور میں دھکیلنے کا سبب بن سکتی ہے۔

پچھلے سال پر نظر دوڑائیں تو ایسا نظر نہیں آتا کہ نیا سال صورتِ حال میں کوئی بہتری یا مثبت تبدیلی لے آئے گا، تاہم نئے سال کے اہم لمحات سیاسی تبدیلی کا عمل ہوسکتے ہیں۔

سیاسی قیادت، وہ صدر زرداری ہوں یا نوازشریف یا پھر چاہے عمران خان، زور دیتے ہوئے کہہ رہے ہیں سیاسی مسائل کا واحد حل شفاف اور آزادانہ انتخابات ہی ہیں۔

حکومت اور پارلیمنٹ، دو نوں کو چاہیے کہ وہ اس برس ایسے شفاف اور آزادانہ انتخابات کے لیے اقدامات کریں کہ جن کے انعقاد کو کئی دہائیاں بیت چکی ہیں۔

اس وقت ایک مضبوط اور آزاد الیکشن کمیشن موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اب ایک غیر جانبدار نگراں حکومت کے قیام کا اعلان کردیا جائے۔

ملک آگے کی سمت قدم بڑھا سکتا ہے اگر سیاسی قیادت حقیقی معنوں میں قیادت کا کردار ادا کرے اور قوت کے سرچشمہ ادارے انہیں ایسا کرنے کی اجازت دیں تو۔
(ڈان نیوز)

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
قادری عوامی غیض وغضب کے نمائندہ؟ ڈاکٹر طاہر القادری کا ‘عوامی انقلاب’ تو شاید نہ آ سکا لیکن پچھلے کچھ دنوں میں پیش آنے والے واقعات نے سیاسی منظر نامے کو نمایاں طور پر بدل دیا ہے۔ اسلام آباد میں لانگ مارچ نے تمام سیاسی قوتوں کو .... مزید تفصیل
2030 تک ایشیا، امریکہ اور یورپ سے زیادہ طاقتور امریکہ کی قومی انٹیلیجنس کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار تیس تک ایشیا کی طاقت یورپ اور امریکہ کی مجموعی طاقت سے زیادہ ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق چین بھی آنے والی دو دہائیوں میں امریکہ کی .... مزید تفصیل
’پاکستان اپنے اہداف حاصل نہیں کر پائے گا‘ پاکستان کے منصوبہ بندی کمیشن اور بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے ’ملینیئم ڈویلپمنٹ گولز‘ یعنی اکیسویں صدی کے آغاز میں مقرر کردہ اہداف .... مزید تفصیل