• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 4 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 4 years ago
alisyed : hi frinds 4 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 4 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 4 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 4 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 4 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 4 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 4 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 4 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 4 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 4 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 4 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 4 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 4 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 4 years ago
mansoor ahmad : very good streming 4 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 4 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 4 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 4 years ago
مذہب سے دوری اور روحانیت سے لگاؤ
[ Editor ] 03-01-2013
Total Views:748
محققین کا کہنا ہے کہ روحانیت سے لگاؤ رکھنے والے افراد کی ذہنی صحت روایتی طور پر مذہب سے لگاؤ رکھنے والوں، مادہ پرست یا دہریے افراد کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جب لوگ خود کو مذہبی کی جگہ روحانی لگاؤ رکھنے والا قرار دیتے ہیں تو ان کا مطلب کیا ہوتا ہے؟

روحانیت ایک ایسی اصطلاح ہے جو آج کل عام استعمال میں ہے۔ چاہے وہ شہزادہ چارلس ہوں یا یارک کے آرچ بشپ کئی اہم شخصیات اسے مذہبی تفریق سے علیحدگی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر مائیکل کنگ کے مطابق اب برطانیہ میں بیس فیصد افراد خود کو روحانیت سے وابستہ قرار دیتے ہیں۔

امریکہ میں دو ہزار پانچ میں نیوز ویک کے ایک جائزے کے مطابق وہاں یہ تعداد پچیس فیصد کے لگ بھگ تھی جبکہ اکتوبر میں پیو ریسرچ سنٹر کے سروے میں جہاں بیس فیصد افراد نے خود کو لادین ظاہر کیا وہیں ان میں سے سینتیس فیصد نے خود کو مذہبی کی جگہ روحانیت سے وابستہ قرار دیا۔

پروفیسر کنگ کی تحقیق کے مطابق برطانیہ میں روحانی افراد ذہنی باؤ یا ڈپریشن جیسے امراض کا زیادہ شکار ہو سکتے ہیں۔

دنیا میں اس تحقیق سے اختلاف کرنے والے لوگ یقیناً موجود ہوں گے لیکن یہ بات واضح ہے کہ مغربی ممالک میں خود کو مذہب سے دور مگر روحانیت سے لگاؤ رکھنے والا قرار دینے والوں کی کمی نہیں ہے۔

مصنف مارک ورنون کا کہنا ہے کہ اس قسم کے روحانی لگاؤ کی ایک اہم وجہ یہ خیال ہے کہ مذہب جدید اقدار کے ساتھ چلنے میں ناکام رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’آج کے دور میں سائنس بہت سے لوگوں کے لیے خدا کا متبادل بن گئی ہے۔‘

لیکن جہاں سائنس دنیا کی تشریح کرنے کے قابل تو ہے وہیں وہ یہ نہیں بتاتی کہ دنیا میں کتنے لوگ اس کائنات میں اپنی موجودگی کے بارے میں سوچتے ہیں۔

ہیبت اور حیرانگی وہ احساسات ہیں جنہیں روحانیت سے لگاؤ رکھنے والے افراد اس دنیا سے اپنا رشتہ بیان کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ دنیا پیسے، روزگار اور روزمرہ کے کاموں سے کہیں آگے کی چیز ہے۔

سورج غروب ہونے کا منظر ہو یا کوئی دھن یا پھر کسی سٹیڈیم میں جمع افراد کا شور، ان افراد کی زندگی میں ایسے لمحات ہوتے ہیں جو ان کی زندگی میں محرک کا کام کرتے ہیں۔

انٹیڈوٹ نامی کتاب کے مصنف اولیور برکمین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ’مذہبی نہیں روحانی‘ کی اصطلاح اگرچہ ایک قسم کا مذاق بن کر رہ گئی ہے لیکن یہ خیال ایسا ہے کہ اس کا دفاع کیا جائے۔ ’میرے نزدیک روحانیت وہ ہے کہ جس کا الفاظ میں بیان ممکن نہ ہو۔ یہ انسانی تجربات کی وہ شکل ہے جس کے بارے میں سوچا نہیں جا سکتا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’یہ اعتقاد سے کچھ زیادہ ہے‘ جیسا کہ عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے عبادت کا طریقہ بھی اعتقاد جتنا ہی اہم ہے۔

جنوبی لندن میں مراقبہ کرنے والے گیٹن لوئی کیننویل کا کہنا ہے کہ ’ہم کسی خدا کی عبادت نہیں کر رہے نہ ہی آسمان میں موجود کسی کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ یہ تو فنا اور حال میں جینے جیسی باتوں کو تسلیم کرنے کی تربیت ہے۔ اگر آپ اس کی جھلک بھی دیکھ لیں کہ حال کو قبول کر کے آپ کتنا خوش ہو سکتے ہیں تو آپ کے گڈمڈ خیالات ختم ہو جاتے ہیں۔‘

مراقبہ ٹرسٹ کے ڈائریکٹر کولن بیکلے کا کہنا ہے کہ اصل روحانی تجربہ صرف خاموشی ہے۔ ’فنا کا خیال اکثر فطرت کے قریب جانے جیسے کہ کسی پہاڑ پر جا کر آتا ہے لیکن مراقبے سے آپ اسے اپنے فلیٹ میں بیٹھ کر بھی محسوس کر سکتے ہیں۔‘

لیکن کچھ افراد کے لیے روحانیت بےبنیاد خیالات کا دوسرا نام ہے۔ نیویارک کے تھنکرز سیلون کے ڈائریکٹر ایلن ملر کا کہنا ہے کہ ’مذہبی نہیں روحانی‘ کا نعرہ کسی قسم کے اصول وضع نہیں کرتا۔

اسی طرح منظم مذاہب سے وابستہ افراد بھی اس روحانی خیالات کو رد کرتے ہیں۔ لندن انسٹیٹیوٹ آف کنٹمپریری کرسچینیٹی سے وابستہ برائن ڈریپر کہتے ہیں کہ ’لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ اس بڑی تصویر میں کہاں جڑتے ہیں جو کہ ایک شاندار بات ہے لیکن ان کے خیالات منتشر ہیں اور بہت سے افراد کے خیالات کی بنیاد ایسے سائنسی خیالات پر ہیں جن کا وجود ہی نہیں۔‘

(بی بی سی نیوز)


About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
واقعی ہم اب وہ نہیں رہے ہاں واقعی ہم اب وہ نہیں رہے جو بحثیت مسلمان ہم کو ہونا چاہیےتھا اور رہیں بھی کیسے .. کیونکہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں اس ماحول کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہوتا ہے.. اسی لئے اگر تمام .... مزید تفصیل
جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہاری جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کے بارے میں نہ رہنمائی کروں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ۖ۔ آپ ۖ نے فرمایا:- لا حول ولا قوة الا باللہ La hawla wala quwata illa billah. Meaning:- .... مزید تفصیل
فیصلہ اب عوام نے کرنا ہے پاکستان امت مسلمہ کےلیےاللھ کی طرف سی ایک انعام تھا جہاں تمام مسلمان اللھ کی عبادت کرسکتے تہے پاکستان دو قومی نظریہ کی بنیاد پر قائم ہوا جہاں سب مسلمان ایک ہی اللھ کی عبادت کرنا چاہتے تہے پاکستان .... مزید تفصیل