• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 4 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 4 years ago
alisyed : hi frinds 4 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 4 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 4 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 4 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 4 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 4 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 4 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 4 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 4 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 4 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 4 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 4 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 4 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 4 years ago
mansoor ahmad : very good streming 4 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 4 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 4 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 4 years ago
قائداعظم ہے آپ کے پاس؟
[ Editor ] 03-01-2013
Total Views:848
دسمبر کی ایک سرمئی شام سنگاپور کے ہسپتال میں دامنی چل بسی۔ فضاؤں میں گونجتی چیخ و پکار، جسم پر زخموں کے نشان۔ دامنی کے بوڑھے باپ نے جب اپنی بیٹی کی موت کی خبر سنی تو اس کی آنکھوں میں آنسو ٹھہر گئے۔

تیئس سالہ دامنی اپنی موت سے ہندوستان کی کروڑوں عورتوں کو یہ پیغام دے گئی کہ اب ان کو اپنے حقوق کے لیے خود کھڑا ہونا ہے، مزاحمت کرنی ہے اور مردانہ برتری کے خبط کے شکار اس معاشرے میں توازن قائم کرنا ہے۔

ریاست کے صدر سے وزیراعظم اور حکمران جماعت کی سربراہ تک سب نے اس واقعہ پر نہ صرف افسوس کا اظہار کیا بلکہ مجرموں کی فوری گرفتاری کے وعدے بھی کیے۔ پاکستان میں میڈیا نے اس واقعہ کو غیر متوقع طور پر بھرپور کوریج دی لیکن شومئی قسمت یہ وہی ملک ہے جہاں مختاراں مائی کے قاتلوں کو عدالت نے رہا کر دیا تھا۔ وہ بے بس عورت جو اپنے بھائی کے گناہوں کی سزا سرِ بازار بھگتتی رہی، پاکستانی میڈیا نے اسے تماشہ بنا ڈالا اور ملک کے صدرِ مملکت یہ کہنے سے بھی نہ ہچکچائے کہ پاکستانی عورتیں بیرونی ممالک کے ویزا کے حصول کے لیے اپنے ساتھ خود زیادتی کرواتی ہیں۔

یہ ہمارے جاگیردارانہ معاشرے کا ایک روپ ہے، ایک ایسا معاشرہ جس میں عورت کی آہوں کا سودا جاری ہے۔

دامنی ہسپتال میں تڑپ رہی تھی اور ہندوستان کے دارالحکومت میں بچوں، بوڑھوں اور نوجوانوں کی آنکھوں میں نمی تیر رہی تھی۔ ہر لڑکی خود کو عدم تحفظ کا شکار تصور کرنے لگی تھی کہ ہندوستان میں ہر روز کتنی ہی عورتیں مردانہ ہوس کی اس طاقت کا شکار ہوجاتی ہیں مگر ہمیں یہ سب کچھ صرف ہندوستان میں ہی دکھایی دیتا ہے اور اپنے ہی ملک کے بارے میں ہماریآنکھیں بند رہتی ہیں۔

دو ہزار دس میں دسمبر کی ایک ایسی ہی شب کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس میں دو لڑکیاں ریپ کا شکار ہوئیں اور کئی گھنٹوں تک شہر کی ایک اہم شاہراہ کے کنارے تڑپتی رہیں۔

ان کی امیدوں کا قتل کرنے والے چار ملزم گرفتار ہوئے لیکن اس کے بعد مکمل خاموشی چھاگئی۔ میڈیا میں کوئی فالو اَپ نہیں آیا۔ جب ایک اخبار کے رپورٹر نے پولیس افسر سے سوال کیا تو جواب ملا ’یہ لڑکیاں مختاراں مائی نہیں ہیں، یہ دوسری مائیاں ہیں۔‘ شاید یہی وجہ تھی کہ ان لڑکیوں نے پولیس میں رپورٹ درج نہ کروانے کا فیصلہ کیا تھا۔

ان میں سے ایک باہمت لڑکی ایک دوست کے مشورے پر جب ایف آئی آر درج کروانے گئی تو پولیس اہلکار کا مطالبہ ایک ہی تھا کہ ‘کیا اس کے پاس قائداعظم ہے؟‘ کبھی یہ لڑکیاں ’ناچنے والی‘ قرار پائیں تو کبھی ان پر ’کال گرل‘ ہونے کا الزام عائد ہوا۔ یوں ان کے ریپ کا جواز پیدا کرلیا گیا اور پولیس اپنی ذمہ داری سے عہدہ برأ ہوگئی۔

اگر یہ ملک کے سب سے بڑے شہر کا احوال ہے جسے ایک ترقی یافتہ سوچ کا حامل سمجھا جاتا ہے، جو روشنیوں سے جگمگاتا، خواب اور حقیقت کے درمیان معلق ہے تو ان شہروں کا کیا حال ہوگا جو ابھی تک جہالت کی تاریکی میں لٹکے ہیں؟

بلوچستان میں عورتوں کو بھوکے کتوں کے آگے چھوڑ دیا گیا، ان پر بدترین تشدد کیا گیا اور پھر زندہ درگور کر دیا گیا۔ قصور ان کا عورت ہونا تھا۔ یہاں تک کہ ایک سیاسی رہنما نے اس عمل کی حمایت تک کر ڈالی اور کہا کہ اس نوعیت کے واقعات پر تنقید درست نہیں، یہ صدیوں پرانی روایات ہیں جن سے انحراف ممکن نہیں۔

ان موصوف کے خلاف کوئی مذمتی قرارداد آئی اور نہ ہی ان کی پارلیمان کی رکنیت منسوخ ہوئی۔ ہر معاملے میں حکومت سے ’پنجہ آزمائی‘ کے شوقین ادارے نے بھی کوئی سوموٹو نوٹس نہیں لیا اور یہ صاحب اس وقت بھی وزارت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

سوات میں ایک نہتی عورت پر کوڑے برسائے جاتے رہے، ویڈیو نشر ہوئی، سوات میں آپریشن ہوا اور معاملہ ختم۔!

ہندوستان میں روزانہ سینکڑوں عورتوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن پاکستان میں بھائی کی سزا بہن کو دینے کی روایت زیادہ عام ہے۔ باپ کے گناہ بیٹی کے سر تھوپے جاتے ہیں۔ زیادتی کی شکار لڑکیوں کو کال گرل قرار دے کر زیادتی کے عمل کو اس کی کسی چال سے تعبیر کیا جاتا ہے مگر ہم اسے دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں۔

دامنی پر سراسر ظلم ہوا، اس پر دو آنسو بہائیے، ہندوستان میں اخلاقی اقدار کی پامالی پر واویلا کیجئے اور خاموش ہوجائیے۔ اپنے گریبان میں جھانکنے کی غلطی مت کیجئے گا کہ آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔

آٓپ کو انصاف چاہیے تو آپ کو قائداعظم کا سہارا لینا ہوگا۔ اہلِ وطن نے بانی پاکستان کے ساتھ کچھ ایسا سلوک کیا ہے کہ وہ ایک انسان، ایک رہنماء یا ایک قائد سے زیادہ ’برائے فروخت‘ کا اشتہار بن کر رہ گئے ہیں۔

معاملہ یوں ہے کہ مذہبی جماعتوں کے قائداعظم ’ملا عمر‘ سے مماثلت رکھتے ہیں اور لبرلز کے جناح ’مصطفی کمال اتاترک‘ کے ہم زاد۔ ان کا فلسفہ، ان کی فکر لائبریری کے کسی نیم تاریک گوشے میں پڑی گل سڑ رہی ہے اور ہم پورے خشوع و خضوع کے ساتھ ’قائداعظم کے پاکستان‘ کا ڈھول پیٹتے رہتے ہیں تاکہ عورتوں کی آنکھوں سے گِرتے آنسو ہماری نظروں سے اوجھل رہیں۔

(ڈان نیوز)

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
سیاسی ڈرون اور اندھیرے کے مسافر سچ بیان کرنا بڑی ذمہ داری کا کام ہے ،اگر اس ذمہ داری کو نبھانے میں میں معمولی سی بھی چوک ہوجائے تو سچ اپنی امتیازی حیثیت کھو دیتا ہے،جھوٹ کمزور چیز ہے یہ اکیلے میں بولا جائے یا کروڑوں کے مجمعے کے سامنے .... مزید تفصیل
 مضبوط کرپشن، کمزور جمہوریت روزانہ بارہ ارب روپے بدعنوانی کی بھینٹ چڑھ جانے کے اعداد و شمار چونکا دینے والے ہیں لیکن لگتا نہیں ہے کہ یہ جائزہ اعداد و شمار کے حوالے سے مکمل ہے۔ بات صرف بدعنوانی کی نذر روپے کے اعداد و شمار کی ہی .... مزید تفصیل
احتساب کی آزادی ایک بار پھر سرکاری افسران کا احتساب گذشتہ ہفتے سے خبروں کا موضوع ہے اور ایک بار پھر غلط وجوہات کے ساتھ۔ اول، رینٹل پاوراسکینڈل میں ملوث ملزمان کے خلاف تفتیش میں پیش رفت کے فقدان پر سپریم کورٹ گرجی .... مزید تفصیل