• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 5 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 5 years ago
alisyed : hi frinds 5 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 5 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 5 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 5 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 5 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 5 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 5 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 5 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 5 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 5 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 5 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 5 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 5 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 5 years ago
mansoor ahmad : very good streming 5 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 5 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 5 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 5 years ago
نیا عسکری نظریہ
[ Editor ] 07-01-2013
Total Views:939
پاکستان کے نئے عسکری نظریے یا ‘ملٹری ڈاکٹرائین’ پر حالیہ دنوں میں بہت بہت باتیں کی جاچکی ہیں۔ وزیرِ اعظم نے جمعہ کو کہا کہ ملک کو ایک نئے نظریے کی ضرورت تھی۔

گذشتہ دنوں ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا گیا تھا کہ فوج نے سیکیورٹی خطرات کے حوالے سے نظریات کی اپنی فہرست میں داخلی صورتِ حال کو ملکی سیکیورٹی کے لیے سب سے سنگین خطرے کے طور پر شامل کرلیا ہے۔

جس کے بعد اس موضوع پر تاثرات اور تبصروں کی بھرمار ہوچکی تھی، لیکن یہ تصور نیا نہیں ہے۔

گذشتہ سال یومِ آزادی کے موقع پر اپنے خطاب میں جنرل کیانی نے کھلے بندوں نہ صرف یہ کہا کہ ‘شدت پسندی اور دہشت گردی ہمارے لیے بہت بڑا چیلنج ہے’ بلکہ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ‘اس کے خلاف جنگ ہماری اپنی ہے اور یہ صرف ایک جنگ ہے۔’

فوج کے تصورات میں یہ تبدیلی کچھ وقت پہلے ہی شروع ہوچکی تھی مگر پھر بھی حکومت دہشت گردی کے خطرے کے اظہار کے بجائے دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے انفرادی واقعات کی مذمت کرتی رہی ہے۔

لیکن جو بات نئے فوجی نظریے میں شامل نہیں وہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس پر آمادگی ہے کہ ہم سب کو، جس میں عوام، سپاہی، سیاستدان اور میڈیا بھی شامل ہوں، مل کر یہ جنگ لڑنی ہوگی۔

مسئلے کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ نظریے کو وقت کے ساتھ تیزی سے تبدیل بھی کردیا جاتا ہے۔

پاکستانیوں کو وہ وقت ابھی تک یاد ہے جب افغانستان میں سوویت جارحیت کے خلاف لڑنے کے لیے ‘مجاہدین’ کو ریاست تربیت دی رہی تھی، انہیں مسلح کیا جارہا تھا۔ اس کے بعد انہیں کشمیر میں مبینہ طور پر جہاد کے لیے استعمال کیا گیا۔

جب سن دو ہزار ایک میں پالیسی تبدیل ہوئی تو پھر ‘اچھی’ جہادی تنظیموں پر سن دو ہزار دو میں پابندی لگادی گئی۔

بعد کے برسوں میں قبائلی علاقوں میں ان کے خلاف فوجی آپریشن کیا گیا۔ اس کے لیے پاکستان نے کوئی وضاحت نہیں دی ماسوائے ایک بات کے کہ نائین الیون کے بعد ایسا کرنے کے لیے امریکی دباؤ تھا۔

اگرچہ جہادی تنظیموں کو کالعدم قرار دیا گیا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ ان میں میں سے بعض کو اب بھی نامعلوم وجوہات کی بنا پر، پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے، سرگرمیاں جاری رکھنے کی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔

بعض فوجی حکام نجی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ سن اُنیسّو اسّی اور نوّے کی دہائی میں اختیار کی گئی پالیسی غلط تھی۔ خود جنرل کیانی کا بھی بنا کسی وضاحت کے کہنا تھا کہ ‘ماضی میں جو کچھ ہوا، اُس کے ذمے دار ہم سب ہیں۔’

لیکن یہ کہہ دینے کے باوجود صورتِ حال واضح نہیں ہوتی، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں کہ جب عسکریت پسند گروپ مذاکرات کی پیشکش لے کر سامنے آئے ہیں۔

عوام کو بیچنے کے لیے مذاکرات کی پیشکش ایک ناقص مال ہے۔ حکومت اور فوج کو عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے واضح اور شفاف پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے پہلے کہ اُن لوگوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے بیٹھا، جو القاعدہ کی بیعت کرچکے ہیں، جو جمہوریت پر یقین نہیں رکھتے اور ہندوستان کے ساتھ کے حامی ہیں، حکومت اور فوج، دونوں کی عسکریت پسندی کے معاملے پر سوچ بالکل واضح ہوجانی چاہیے۔

یہاں ایک اور مسئلہ بھی ہے اور وہ ہے ‘اچھے’ اور ‘بُرے طالبان’ میں فرق کا۔

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران عسکریت پسندوں کی طرف سے کیے گئے پے در پے دہشت گرد حملوں کے بعد آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔

وقت آگیا ہے کہ فوجی نظریے کی اس تبدیلی کو بطور موقع استعمال کرتے ہوئے واضح طور پر عوام کو آگاہ کیا جائے کہ نیا فوجی نظریہ کیا ہے اور یہ ماضی کے نظریات سے کس قدر مختلف ہے۔

ڈان نیوز

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
قاضی حسین احمد کی زندگی قاضی حسین احمد 1938ء میں ضلع نوشہرہ (صوبہ خیبر پختون خوا) کے گاؤں زیارت کاکا صاحب میں پیدا ہوئے اور اپنے دس بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنے والد مولانا قاضی محمد .... مزید تفصیل
 جنوبی پنجاب کے مسائل کا حل الگ صوبہ ہی ہے؟ کل اسلام آباد میں نئے صوبوں کے قیام سے متعلق پارلیمانی کمیشن کا اجلاس سینیٹر فرحت اللہ بابر کی صدارت میں ہوا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں نئے صوبے کا نام ‘بہاولپور جنوبی پنجاب’ رکھنے پر اتفاق ہوگیا۔ .... مزید تفصیل
2030 تک ایشیا، امریکہ اور یورپ سے زیادہ طاقتور امریکہ کی قومی انٹیلیجنس کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ دو ہزار تیس تک ایشیا کی طاقت یورپ اور امریکہ کی مجموعی طاقت سے زیادہ ہو جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق چین بھی آنے والی دو دہائیوں میں امریکہ کی .... مزید تفصیل