• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 5 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 5 years ago
alisyed : hi frinds 5 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 5 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 5 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 5 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 5 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 5 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 5 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 5 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 5 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 5 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 5 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 5 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 5 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 5 years ago
mansoor ahmad : very good streming 5 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 5 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 5 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 5 years ago
سیاسی ڈرون اور اندھیرے کے مسافر
[ Editor ] 17-01-2013
Total Views:1294
سچ بیان کرنا بڑی ذمہ داری کا کام ہے ،اگر اس ذمہ داری کو نبھانے میں میں معمولی سی بھی چوک ہوجائے تو سچ اپنی امتیازی حیثیت کھو دیتا ہے،جھوٹ کمزور چیز ہے یہ اکیلے میں بولا جائے یا کروڑوں کے مجمعے کے سامنے کہا جائے ایک مخصوص مدت کے بعد یہ مٹ جاتا ہے لیکن سچ اگر بگڑ جائے تو یہ دھیرے دھیرے روایت بن جاتا ہے ،بگڑی ہوئی شکل کا سچ ایک ایسا ڈرون ہوتا ہے جو جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا سوچ کو مفلوج کر دیتا ہے اور پھر نسلیں اس کی تباہ کاریاں سہتی رہتی ہیں۔


ایسا ہی ایک ڈرون ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین صاحب نے گرایا،میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کے انھوں نے تاریخ سے کن واقعات کو چن کر قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ سے منسوب کیا وہ ساری تفصیل پڑھے لکھے لوگوں کیلئے کتابوں میں اور وکی پیڈیا پر موجود ہے ان کیلئے الطاف حسین صاحب کی باتیں قطعاََ کوئی انکشاف نہیں ،اس ملک کے وہ لوگ جو تعلیم یافتہ ہیں ،جن کے اذہان انھیں سوال کرنے پر مجبور کرتے ہیں ،جو تحقیق کی طاقت سے واقف ہیں ان کیلئے الطاف حسین صاحب کی تقریر کوئی ڈرون نہیں ہے، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایسے لوگ اس ملک میں تعداد میں بہت کم ہیں ،یہاں اکثریت ان لوگوں کی ہے جن کے ذہن میں سوال جنم نہیں لیتا ،جن کی طبیعت تحقیق پر مائل نہیں ہوتی یہ تقریر ان لوگوں کیلئے واقعی ڈرون ہے ،پڑھے لکھے لوگوں کیلئے یہ سارا معاملہ زیادہ سے زیادہ پندرہ دن کی بحث ہے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں ،لیکن وہ لوگ جو غیر تعلیم یا فتہ ہونے کے ساتھ ساتھ بے ربط عقیدت کے بوجھ تلے بھی دبے ہوئے ہیں ،ان کیلئے اس ڈرون کی تباہ کاریوں سے بچنا مشکل ہوگا، تاریخ اور جغرافیے کے متعلق کوئی بھی شخص مکمل جھوٹ نہیں کہہ سکتا الطاف حسین صاحب نے جن واقعات کا ذکر کیا ان سے انکار نہیں ،میں یہاں تاریخ اور جغرافیے سے ہٹ کر بات کرنا چاہتا ہوں ،میں بات کرنا چاہتا ہوں الطاف حسین صاحب کی تقریر کے ابتدائیہ کلمات کی جب انھوں نے کہا کہ وہ قوم اندھیرے کی مسافر ہوتی ہے جو اپنے قائد سے نا واقف ہوتی ہے، انھوں نے یہ بات بالکل سچ کہی واقعی یہ قوم اندھیرے کی مسا فر ہے ،گزشتہ65 برسوں سے یہ قوم اندھیرے میں سفر کر رہی ہے

،ایک بہت بڑا طبقہ ایسا ہے جس نے اس ملک میں بڑے بڑے مکان بنائے ،اولادوں کو تعلیم دلوائی،جائدادیں بنائیں لیکن پھر بھی کہتے رہے پاکستان غلط بن گیا،ہمیں یہاں آکر ملا ہی کیا ،قائدِ اعظم نے پاکستان بناکر مسلمانوں کو دو دھڑوں میں بانٹ دیا،اگر ہندوستان میں ہوتے تو آج مسلمان حاکم ہوتے ۔اس طرح کی سوچ رکھنے والا کوئی نہ کوئی شخص آپ لوگوں سے کبھی نہ کبھی ضرور ملا ہوگا ،یہ سوچ رکھنے والے پاکستان کی پہلی نسل سے تعلق رکھتے تھے یہ اندھیرے کے مسافر تھے،اس لئے اپنی نسلوں کو بھی اندھیرے دے گئے اور ہم بحیثیت قوم کبھی اس ملک سے ،اپنے قائد ؒ سے محبت نہ کر سکے ،انفرادی طور پر تو اس ملک سے محبت کرنے والے اور قائد کو سمجھنے والے تھے لیکن مجموعی طور پر ملک سے محبت کبھی نہ پنپ سکی،اور یہ اندھیرے کے مسا فر اندھیرے میں چلتے رہے۔

مسافر کا کام چلنا ہے اور چلنے والے سے یہ امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ کبھی نا کبھی کہیں پہنچ ہی جائے گا اگر اس کی راہ میں اندھیرا ہے تب بھی یہ گمان کیا جاسکتا ہے کے مسلسل چلتے رہنے سے وہ کبھی اجالے کو پا ہی لے گا،لیکن جو اندھیر ے میں ڈیرہ ڈال لے ،تاریکی کا مکین ہوجائے اس کے اوپر روشنی حرام ہوجاتی ہے ،الطاف حسین صاحب نے فرمایا جو اپنے قائد کو نہ سمجھے وہ اندھیرے کا مسافر ہے ،لیکن انھوں نے یہ نہیں بتایا جو اپنے قائد سے بد گمان ہوجائے وہ تاریکی کا مکین ہوجاتا ہے ،سفر ترک کردیتا ہے اور سفر ترک کر دینے والے جامد ہوجاتے ہیں،بد قسمتی سے الطاف حسین صاحب کی تقریر ان لوگوں کو قائدؒ سے بد گمان کر سکتی ہے جو پہلے ہی قائد ؒ کو نہیں جانتے ۔الطاف حسین صاحب نے اندھیر ے کے مسافروں کی نشاندھی تو کر دی لیکن انھیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں لائے گا کون یہ نہیں بتایا،قدرت نے انھیں منصب دیا ہے لاکھوں لوگ ان کی بات سنتے ہیں ،لیکن ان کی کل کی تقریر کمزور اذہان کیلئے ڈرون بن گئی ہے ،ایک ایسا ڈرون جو ان کی سوچ کو تباہ کر سکتا ہے،انھیں بدگمان کر سکتا ہے ،اور یہ بدگمانی آنے والی نسلوں کیلئے تاریکی بن سکتی ہے۔


کل الطاف حسین صاحب کو قدرت نے موقع دیا تھا کہ وہ ان لوگوں کو اجالوں سے روشناس کرادیں جو مدتوں سے اندھیرے میں سفر کر رہے ہیں،وہ اس قوم کو بتادیں کہ جارج ششم سے گورنر جنرل کا حلف لینے والے،برطانوی پاسپورٹ رکھنے والے ہمارے قائدؒ نے اس قوم کو اذن تھی کے جاؤ اس پاک سر زمین کی طرف جہاں تمھاری بہنیں اور بیٹیاں ہندو گھرانوں میں نہیں بیہائی جائیں گی،جاؤ اس مملکتِ خداداد کی طرف جہاں تمہاری سماعتوں سے بھجن نہیں اذان کی آواز ٹکرائے گی،قدم بڑھاؤ اس ملک کی طرف جہاں تمھیں سنتِ ابراہیمی کے مطابق قربانی کرنے کیلئے کوئی ویرانہ نہیں ڈھونڈ نا پڑے گا،جاؤ اس وطن کی طرف جو جغرافیہ نہیں معجزہ ہے ،بڑھو اس پاک سر زمیں کی طرف جہاں تمہاری اولادیں دو مختلف تہذیبوں کے پاٹ میں نہیں پسیں گی۔ کل الطاف حسین صاحب کے پاس موقع تھا کے وہ قائدؒ سے لوگوں کو روشناس کرا دیتے وہ بتا دیتے کے برطانیہ سے وفا داری کی قسم کھانے والے قائد ؒ نے پاکستان بن جانے کے بعد برطانیہ میں رہنا تو دور وہاں اپنا علاج کرانا بھی مناسب نہ سمجھا اور اپنے ملک میں موت کو گلے لگا لیا جہاں ان کیلئے مناسب ایمبولینس بھی دستیاب نہ تھی،موت کا خوف ان کی ملک سے محبت پر غالب نہ آیا۔

مائیک تھامنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچ لینا چاہیے کہ جھوٹ کمزور چیز ہے یہ اکیلے میں بولا جائے یا کروڑوں کے مجمعے کے سامنے کہا جائے ایک مخصوص مدت کے بعد یہ مٹ جاتا ہے لیکن سچ اگر بگڑ جائے تو یہ دھیرے دھیرے روایت بن جاتا ہے ،بگڑی ہوئی شکل کا سچ ایک ایسا ڈرون ہوتا ہے جو جسم کو نقصان نہیں پہنچاتا سوچ کو مفلوج کر دیتا ہے اور پھر نسلیں اس کی تباہ کاریاں سہتی رہتی ہیں۔
(دی نیوز ٹرا ئب)

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین