• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 5 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 5 years ago
alisyed : hi frinds 5 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 5 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 5 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 5 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 5 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 5 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 5 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 5 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 5 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 5 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 5 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 5 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 5 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 5 years ago
mansoor ahmad : very good streming 5 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 5 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 5 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 5 years ago
احتساب کی آزادی
[ Editor ] 20-01-2013
Total Views:1112
ایک بار پھر سرکاری افسران کا احتساب گذشتہ ہفتے سے خبروں کا موضوع ہے اور ایک بار پھر غلط وجوہات کے ساتھ۔

اول، رینٹل پاوراسکینڈل میں ملوث ملزمان کے خلاف تفتیش میں پیش رفت کے فقدان پر سپریم کورٹ گرجی ہے۔ اگرچہ عدالت نے جس وقت یہ بات کہی، اس پر بہت کچھ کہا جا چکا، تاہم بنیادی بات بالکل درست ہے: اس کیس میں ملوث اہم ملزمان کے خلاف تفتیش کے لیے بہت ہی کم پیش رفت کی گئی ہے۔

بعد ازاں، رینٹل پاور اسکینڈل کی تفتیش کرنے والے قومی احتساب بیور (نیب) کے افسر جمعہ کو مشکوک حالات میں، پُر اسرار طور پر مُردہ پائے گئے۔

بجائے اس کے کہ کامران فیصل کی موت کا سبب بننے والے عوامل جاننے کے لیے اقدامات کیے جاتے، حکومت حقائق کو مزید پیچیدہ بنادینے والے موقف کے ساتھ نمودار ہوئی۔

ان دونوں باتوں کی تان ٹوٹی جناب طاہر القادری کے اسلام آباد میں دیے گئے دھرنے کے اختام پر، جہاں بیٹھے مظاہرین کے مطالباات کا مرکزی موضوع سرکاری افسران کا احتساب تھا۔

ایک بار پھر یہ کہ جناب قادری، جن کے دھرنے پر اب بھی سوالیہ نشان ہے اور ان کے مطالبات آئینی دائرے سے باہر ہیں، ان کے ساتھ، ریاست چلانے کے طریقہ کار پر عوام کے عدم اعتماد کے تناظر میں، معاملات طے کرلیے گئے۔

کیا یہ پیش رفت واقعی ملک میں حقیقی احتساب کے طریقہ کار کو جنم دے سکتی ہے، جو اس ملک کے عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کا صحیح معنوں میں احستاب کرسکے۔ وہ ایسا احتساب نہیں ہو جیسا کہ پہلے احتساب بیورو اور اب نیب میں سیاسی بنیادوں پر ہوتا رہا ہے؟

ہاں، احتساب کے نئے فریم ورک کی تشکیل کے لیے قانون سازی طویل عرصے سے منظوری کی منتظر ہے۔ اب عوام اور میڈیا کی طرف سے حکومت اور اپوزیشن پر اس کی منظوری اور نفاذ کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔

علاوہ ازی، جب یہ قانون تشکیل پاجاتا ہے تو اس نئے نظامِ احتساب میں دو مسائل حل کیے جانے چاہئیں۔ اس سے ہی اس نظام کے موثر ہونے کا تعین ہوسکے گا۔

اول، نئے احتساب ادارے کے سربراہ کا انتخاب وسیع مشاورتی عمل کے تحت ہونا چاہیے۔

جب قومی احتساب بیورو کے موجود چیئرمین فصیح باری کی تقرری کی گئی تھی تب حکومت نے قانون کے تحت درکار مشاورت کا عمل جلد بازی میں اور بہت کم طور پر مکمل کیا تھا۔ جلد بازی میں اپوزیشن کے ساتھ مختصر مشاورت کے بعد، من پسند امیدوار کی تقرری کردی گئی تھی۔

احتساب کا عمل طویل عرصے تک صرف اس لیے ناکام رہا ہے کہ حکومت ازخود اس کے سربراہ یا بیورو سربراہان کے تقرر کرنے کی مجاز تھی۔

دوم، احتساب کمیشن اب تک تصور اور سوچ کے مراحل میں ہے۔ اسے بااختیار بنانے کے لیے مالیاتی اور انتظامی آزادی فراہم کی جائے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور میں احتساب کا ادارہ وزیراعظم کے ماتحت تھا تاہم موجودہ حکومت نے انتظامی لحاظ سے اسے وزارتِ قانون کے سپرد کردیا۔

موجودہ حکومت اس کے بجٹ میں اسّی فیصد تک کی کٹوٹی کرچکی ہے اور مالیاتی طورپر بااختیار نہ ہونے کے سبب، قومی احتساب بیورو نے تیزی سے اپنے حجم میں کمی کی ہے۔

مالیاتی اور انتظامی لحاظ سے آزادی میسر نہ ہونے کے سبب، احتساب پر معتین اہلکار احتساب کرنے کے قابل نہیں رہ پائیں گے۔
(ڈان نیوز)

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین