• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 4 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 4 years ago
alisyed : hi frinds 4 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 4 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 4 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 4 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 4 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 4 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 4 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 4 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 4 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 4 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 4 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 4 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 4 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 4 years ago
mansoor ahmad : very good streming 4 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 4 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 4 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 4 years ago
ابن مریم ہوا کرے کوئی
[ Editor ] 27-01-2013
Total Views:5881
شعورِ جنس سے نا آشنا مگر جنسی حملے کی شکار وہ معصوم، پہلی کمسن بچی تھی جسے میں نے درد سے بلکتے، سول ہسپتال حیدر آباد کے اس وارڈ میں دیکھا تھا جہاں جاتے ہوئے ناک پہ کپڑا اور آنکھیں؛ چلتے وقت فرش پہ جمائے رکھنی ضروری تھیں کہ کہیں فرش پہ موجود جا بجا پانی میں پیر نہ پھسل جائے۔

جنسی ہوسناکی نے کس طرح اس معصوم کے جسم میں دوزخ کا جہٓان اتارا ہوگا، سوچو تو کلیجہ منہ میں آنے لگتا ہے، کپکپی روح میں اتر جانے کی بات تھی۔ پانچ سال سے کم عمر بچی کی درد سے تڑپ نے، اسکو گود میں لٹانے کی کوشش کرتی ماں کے وجود میں جو قیامت برپا کی ہوئی تھی وہ صاف دکھائی دیتی تھی۔

ماں بیٹی میں سے کسی کے درد کی دوا میرے پاس تو کیا شاید کسی کے پاس بھی نہ تھی۔ شرمندگی سے میری آنکھیں نیچی تھیں مگر بچی کے پیٹ پہ سرجری سےلگاے گئے دو کٹ سرجیکل پٹیوں سے ڈھکے صاف نظر آ رہے تھے جو پیشاب اور پائخانے کے لئے بنائے گئے تھے۔ سرجری اور میڈیکل کی پیچیدگیوں سے ناواقفیت کے باعث ڈاکٹر کی بات صرف اتنا سمجھ پائی تھی کے بچی کے دھڑ کا نچلہ حصہ، تیسری سرجری سے ابھی گزرنا باقی ہے۔

مگر اسکا یہ اصرار میری سمجھ سے باہر تھا کہ تب تک بچی کو ہسپتال سے رخصت کر کے واپس گھر بھیج دیا جائے۔ وہاں اسکی مرھم پٹی کیسے ہوگی؟ اور یہ کہ تیسری سرجری تک تو پیٹ میں لگی نلیاں بھی نھیں نکالی جا سکتیں پھر علاج سے پہلے اسکو گھر بھیجنے کی آخر اتنی جلدی بھی کیا ہے مگر یہ کس سے پوچھا جاتا.

ڈاکٹر کی پریشانی یہ بھی تھی کہ وہ اس مریضہ کو کس طرح گھر بھیجے کہ کوئی مرد اس کے ساتھ نہ تھا۔ بچی کا باپ روز دھاڑی کماتا تھا کہ باقی ماندہ آٹھ بچوں اور اپنے بوڑھے والدین کے پیٹ کا دوزخ ٹھنڈا کر سکے۔ یہ بچی اپنی ماں کے ساتھ کوئی ھفتہ بھر سے ہسپتال میں داخل تھی۔

مگرالیکٹرانک میڈیا کے سارے کیمرے ان دنوں بھی کورٹ نمبر ایک کے دریچے پہ جمی ہوئے تھے۔ ایوان صدرمیں پہلے کہ دوسرے وزیراعظم کے قانونی دفاع کے لئے ایک سے ایک وزیر سر جوڑے بی بی کی قبر کو ٹرائیل سے بچانے کے لئے ھلکان ہوئے جاتے تھے۔

انکی وزیر بیبیاں شام کے ٹی وی ٹاک شو کے لئے صبح سے تیاریاں پکڑتیں تو شام ہو جاتی. ان بچاریوں کو اتنی فرصت کہاں کہ ان چھوٹے موٹے واقعات کا نوٹس لیتیں، ٹنڈو آدم کی ادھ فاقہ زدہ مزدور کنبے کی بچی کی گینگ ریپ کا نوٹس لینے پہ کون سی شہ سرخی بننی تھی کہ وہ خود کو ہلکان کرتیں۔

یہ پتہ نہیں کہاں سے سندھی صحافت کے چوزے چھوٹے سے چھوٹے قصبوں، گلی محلوں سے نکل پڑے ہیں، کوئی ایسی خبر؛ مجال ہے کہ مس ہو۔ مگر یہ ضرور ہے کہ اس قسم کی خبر لگاتے ہوئے ھو سکتا ہے کہ وہ حکومت کی نا اھلی کا ذکر کرنا تو بھول جائیں مگرحقوق خواتین کے لئے کام کرنے والی تنظیموں کی بے حسی کا ماتم کرنا کبھی نہیں بھولتے کہ ’ابھی تک کسی تنظیم کی نمائندہ نے متاثرین کی خبر کیوں نہیں پوچھی۔‘

یہ جاننا ان کا کام نہیں ھے کہ اگر خواتین کے حقوق کے لئے کام کرنے والیاں اگرمتاثرین کی خبر لینے چلی بھی جائیں تو آخر کیا فرق پڑسکتا ہے کہ طاقت کے ترازو میں انکے پاس تو بلند کرنے کے لیئے اب صرف صدا ھی باقی بچی ہے۔ جنسی تشدد کی شکار عورتوں یا بچیوں کی شناخت ظاھر نہیں کی جانی چاہئیے، یہ بنیادی اخلاقیات ابھی ہماری صحافت میں رائج کہاں ہوئی ہے۔

مقامی صحافی شناخت چھپانا تو درکنار ان کی رنگین تصویروں کی اشاعت بھی ضروری سمجھتا ہے، البتہ جوابدار کا نام صیغہ راز مین رکھنا لازم ہے اس لیئے مقامی صحافی جوابدار کو ’الف‘، ’بے‘، ’پے‘ لکھتے ہوئے ساتھ میں لفظ ’با اثر‘ لکھنا کبھی نہیں بھولتا۔

ٹنڈو آدم کی اس بچی کی خبر بھی ان مقامی صحافیوں کی دریافت تھی، اور صرف وھی حضرات تھے جودلجمعی سے اس وقت تک خبر کا فالو اپ دیتے رہے جب تک بچی ہسپتال میں زیرعلاج تھی۔ وہ تیسری سرجری تک پہنچ بھی پائی یا میڈیا اسکی خبر یوں کھا گیا کہ اس کے پاس ضروری خبروں کی نوعیت ھی بدل گئی ھو۔

‘آپکی کیا مدد کی جاسکتی ہے؟’ جاتے وقت میں نے آہستگی کے ساتھ پوچھا تھا۔

‘یہ پتہ نہیں کیسے بچ گئی، مگر میرے باقی بچے بھوکھے ہونگے۔’ دو آنسو اسکی آنکھون کو گیلہ کرتے، اسکے دوپٹے میں جذب ہوگئے تھے۔

اور پھر ٹنڈو آدم ھی کی نہیں پتہ نھیں کتنی بچیاں شعورِ جنس سے پہلے ہر شھر، گلی، سڑک و مکان سے اٹھا کر اس دوزخ کی آگ سے گذاریں گئی ہیں کہ اب نام تو کیا گنتی بھی آپ کو یاد نہیں رہی ہوگی۔

میڈیا کو سرکاری مسخروں سے لیکرغائبِ زمان ایجنسیون کی ھدایتکاری میں چلنے والے ڈراموں سے فرصت ھی کب ملی ہے کی ذرا دھیان ان مسائل کی طرف بھی ہو۔ اور اس سرکار کی طرف بھی کیا دیکھنا کہ وہ پانچ سال تک صرف اپنی کھال بچاتی رھی ہے۔ بڑی عدالت کے انصاف کی میری گلی کوچے، محلے تک آمد میں ابھی کئی زمانے درکار ہیں۔

تازہ خبر میرے شہر کی ھے، وہ کمسن؛ پڑوس کی دکان سے اٹھائی گئی تھی جب وہ بیمار ماں کے لئے کیلسی کا ساشے لینے نکلی تھی۔ پیچھے ماں بلکتی اور چھ دن تک پولیس کے پاؤں پکڑ کر کاروائی کے لیئے روتی رھی۔

اس کی آخری خواہش تھی کہ اگر زندہ نہیں تو کم از کم بچی کی لاش ھی اسکو لا کے دکھائی جائے تاکہ دل کو سکون ہو۔ ایسی ماؤں کو سکون کہاں جن کی کمسن سڑک چلتی بچیاں اٹھائی جاتی ہیں۔

ایک ھفتے کے بعد شہر ہی سے بچی کی دو ٹکڑوں میں ادھ جلی نعش برآمد ہوئی۔ تین دن تک بھوکھا پیاسا رکھ کر نجانے کتنی مرتبہ وہ تین آدمی اپنی اپنی باری لیتے رھے تھے۔ نعش ملنے کے بعد پولیس کاروائی میں اقبال جرم میں انھوں نے بتایا کہ بچی تین دن مسلسل زیادتی کے دوران ھی چل بسی تھی اوران تین دنوں میں بچی کو کھانے پینے کے لیے کچھ بھی نہیں دیا گیا تھا۔ پولیس انعام کی حقدار قرار پائی۔ قابلِ ذکر بات یہ ٹھری کہ اقبال جرم کرتے ان تینون میں سے ایک بندہ بھی اپنے کئے جرم پہ شرمندہ تک نہ تھا۔

حکومتی نمائندوں کے اس بدنصیب ماں کے ساتھ فوٹو سیشن ھو چکے، شھر میں بات پرانی ھو بھی چکی، کئی بچیان خوف کے مارے اسکولوں سے اٹھائی جاچکیں ہیں۔ شھر کے با اثر لوگ مجرموں کو بچانے کے لئے جرمانے کی رقم میں قابل ذکر اضافہ کرتے بچی کی ماں سے بخششِ گناہ کے آتے ہی ہونگے۔

ٹنڈو آدم کی اس بدنصیب ماں کی طرح میرے شہر کی یہ ماں بھی پتہ نہیں کس طرح انصاف حاصل کر پائے گی جس کی ترازو میں جرم چھوٹا اور بھوک کی قیمت ھمیشہ بھاری رھتی ھے۔ کل اگر یہ تینوں با عزت بری ہو کر فاتح کی طرح گھر کو لوٹیں تو پریشان مت ہوئیے گا کہ جب بڑی عدالت کو سیاست کا چسکہ لگ جائے تو میرے ایسے چھوٹے شھروں میں جرم کے دام بھوک سے ھمیشہ کم ھی لگتے ہیں۔
(ڈان نیوز)

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
 اور خون ریزی اگرچہ شدت پسندی ایک قومی مسئلہ ہے، جس کی بھڑکائی آگ میں خیبر پختون خواہ اور اس کے اطراف واقع علاقے جل رہے ہیں تاہم مختلف النوع مسائل کی، ایک دوسرے پر سے گذرتی فالٹ لائنز پر موجود، کراچی کو جس عسکریت .... مزید تفصیل
مذہب سے دوری اور روحانیت سے لگاؤ محققین کا کہنا ہے کہ روحانیت سے لگاؤ رکھنے والے افراد کی ذہنی صحت روایتی طور پر مذہب سے لگاؤ رکھنے والوں، مادہ پرست یا دہریے افراد کے مقابلے میں ممکنہ طور پر زیادہ خراب ہو سکتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ .... مزید تفصیل
واقعی ہم اب وہ نہیں رہے ہاں واقعی ہم اب وہ نہیں رہے جو بحثیت مسلمان ہم کو ہونا چاہیےتھا اور رہیں بھی کیسے .. کیونکہ کہتے ہیں کہ انسان کی زندگی میں اس ماحول کا بہت بڑا اثر ہوتا ہے جس میں وہ رہ رہا ہوتا ہے.. اسی لئے اگر تمام .... مزید تفصیل