• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 4 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 4 years ago
alisyed : hi frinds 4 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 4 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 4 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 4 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 4 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 4 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 4 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 4 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 4 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 4 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 4 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 4 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 4 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 4 years ago
mansoor ahmad : very good streming 4 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 4 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 4 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 4 years ago
گھٹتے جنگل
[ Editor ] 21-02-2013
Total Views:3102
جیسا کہ پاکستان میں متعدد مقامات پر یہی صورتِ حال درپیش ہے، سندھ میں بھی، جنگلات کارقبہ تیزی سے کم رہا ہے۔

گذشتہ چند دہائیوں کے دوران سندھ کے چھور جنگل کا درختوں سے ڈھکا رقبہ نہایت تیزی سے کم ہوا، جس کا الزام تجاوزات اور ریاست کی بے حسی کے سر جاتا ہے۔

اگرچہ چھور کو ‘محفوظ جنگل’ یا پروٹیکٹڈ فاریسٹ قرار دیا جاچکا ہے تاہم اس کے باوجود دیکھ بھال کا یہ عالم رہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ، جنگل کا رقبہ گھٹتے گھٹتے تین ہزار ایکڑ سے کم ہو کر صرف تین سو ایکڑ رہ گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق چھاؤنی کے قیام کے لیے زمین کا بڑا حصہ فوج کو دیا جاچکا جب کہ ایک بڑے حصے پر با اثر مقامی شخصیات کا قبضہ ہے۔

کہا جارہا ہے کہ جنگل کی زمین پرغیر قانونی قبضے میں اہم کردار ان کی حفاظت پر معمور محافظوں یعنی سرکاری فاریسٹ گارڈز کا ہے، جن کی ملی بھگت سے قبضے کیے گئے۔

شاید یہی مسئلے کی بنیادی جڑ ہے: کیا کہہ سکتے ہیں کہ جب محافظ خود ہی تباہی کے مرکزی کردار ہوں؟

جنگلات کو جو نقصان پہنچ چکا، وہ اس تباہی سے حاصل کردہ بعض بہت چھوٹے چھوٹے مفادات، مثلاً درخت کاٹ کر فروخت کردینا یا جنگلاتی وسائل کا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال، کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

زمین کی سطح کو درختوں سے خالی کردینے کے کیا نقصانات ہیں، ضروری ہے کہ محفوظ جنگلات کے اطراف رہنے والے مقامی باشندوں کو ان سے آگاہ کیا جائے۔

اگرچہ شہری علاقوں میں تو درختوں کو بے دردی سے کاٹ کر ان کا صفایا کیا گیا تاہم پاکستان دنیا کے اُن چند ممالک میں شامل ہے جہاں قدرتی جنگلات کی کٹائی کی شرح بہت زیادہ ہے۔

جنگلات کی لا پرواہی سے کٹائی کے سنگین نتائج ہیں: درختوں کے کٹ جانے سے طوفانوں کی شدت، زمینی کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

جب کہ تمر (مینگروز) پر مشتمل ساحلی جنگلات، سمندری موجوں اور سونامی کے خلاف قدرتی ڈھال ہیں مگر یہ بھی بہت تیزی سے ناپید ہوتے جارہے ہیں۔

جنگلات کے تحفظ کی ضرورت اس سے کہیں زیادہ ہے، جتنا کہ سمجھا جاتا ہے۔

اس بات کی اشد ضرورت موجود ہے کہ جنگلات کے تحفظ، ان پر غیر قانونی قبضے روکنے اور جنگلاتی وسائل کے غیر قانونی تجارتی استحصال کو روکنے کے لیے، موجود قوانین کو فوری طور پر اپ ڈیٹ کیا جائے۔

جنگلات کے حوالے سے سرد مہری کو سمجھنے کے لیے یہی مثال کافی ہے کہ ‘سندھ فارسٹ ایکٹ، دو ہزار گیارہ’ کا مسودہ قانون پچھلے دوسالوں سے، سندھ اسمبلی کی منظوری کا منتظر ہے۔

اگرچہ بعض غیر سرکاری تنظیمیں (این جی اوز) جنگلات کے تحفظ کے لیے عوامی بیداری کا قابلِ ستائش کام کررہی ہیں تاہم جب تک ان کوششوں کو ریاست اور کمیونٹیز کی حمایت حاصل نہیں ہوگی، تب تک یہ کہنا شکل ہوگا کہ سبز مستقبل دیکھیں گے۔
ڈان نیوز

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
چڑیوں کے گھونسلوں میں سگریٹ کے فلٹرز ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پرندے اپنے گھونسلے کو گرم اور کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے سگریٹ کے ’بٹ‘ یعنی فلٹرز کا استعمال کرتے ہیں۔ سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے .... مزید تفصیل