• Web
  • Humsa
  • Videos
  • Forum
  • Q2A
rabia shakeel : meri dua hai K is bar imran khan app is mulk k hukmaran hun To: suman(sialkot) 4 years ago
maqsood : hi how r u. To: hamza(lahore) 4 years ago
alisyed : hi frinds 4 years ago
nasir : hi To: wajahat(karachi) 4 years ago
khadam hussain : aslamoalikum pakistan zinsabad To: facebook friends(all pakistan) 4 years ago
Asif Ali : Asalaam O Aliakum . To: Khurshed Ahmed(Kashmore) 4 years ago
khurshedahmed : are you fine To: afaque(kashmore) 4 years ago
mannan : i love all To: nain(arifwala) 4 years ago
Ubaid Raza : kya haal hai janab. To: Raza(Wah) 4 years ago
qaisa manzoor : jnab AoA to all 4 years ago
Atif : Pakistan Zinda bad To: Shehnaz(BAHAWALPUR) 4 years ago
khalid : kia website hai jahan per sab kuch To: sidra(wazraabad) 4 years ago
ALISHBA TAJ : ASSALAM O ELIKUM To: RUKIYA KHALA(JHUDO) 4 years ago
Waqas Hashmi : Hi Its Me Waqas Hashmi F4m Matli This Website Is Owsome And Kois Shak Nahi Humsa Jaise Koi Nahi To: Mansoor Baloch(Matli) 4 years ago
Gul faraz : this is very good web site where all those channels are avaiable which are not on other sites.Realy good. I want to do i..... 4 years ago
shahid bashir : Mein aap sab kay liye dua'go hon. 4 years ago
mansoor ahmad : very good streming 4 years ago
Dr.Hassan : WISH YOU HAPPY HEALTHY LIFE To: atif(karachi) 4 years ago
ishtiaque ahmed : best channel humsa live tv To: umair ahmed(k.g.muhammad) 4 years ago
Rizwan : Best Streaming Of Live Channels. Good Work Site Admin 4 years ago
بچوں میں بولنے میں تاخیر کی وجہ، برقی آلات
[ Editor ] 21-02-2013
Total Views:5988
سائنس داں کہتے ہیں کہ الیکٹرونک مصنوعات کا بڑھتا ہوا استعمال بچوں میں دیر سے بولنے اور بات کرنے میں دقت محسوس کرنے کا ذمہ دار ہے۔

تحقیق دانوں کے مطابق بچے کے لیے ماں کی گود پہلی درس گاہ ہوتی ہے۔ یہیں سے وہ ماں کی مسکراہٹ کے ساتھ مسکرانا اور اس کے ہنسنے پر قلقاریاں مارنا سیکھتا ہے۔ یہ فطری تعلق اسے ماں کی ذات کا اس قدر عادی بنا دیتا ہیکہ وہ ماں کے نزدیک ہونے پر خوش اور دور جانے پر غمگین دکھائی دیتا ہے۔

بچے کا فطری مطالبہ تو آج بھی وہی ہے، مگر معاشی مسائل میں الجھے ہوئے والدین کی ترجیحات پہلے کی نسبت بدل چکی ہیں۔اْن کے پاس اپنے بچے سے باتیں کرنے اور اس کے معصوم سوالوں کا جواب دینے کے لیے وقت نہیں بچتا۔گذشتہ برس برطانوی ادارہ برائے تعلیم کی جانب سے اسکول کے بچوں میں زبان سیکھنے کی صلاحیت اوربات چیت کرنے کی اہلیت جاننے کے حوالے سے ایک تحقیق کی گئی۔

تحقیق دانوں کے مطابق گذشتہ چھ برسوں کے دوران بات کرنے میں دقت محسوس کرنے والے بچوں کی تعداد میں 70فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ایسے بچوں کو اسکول میں ایک ماہر زبان دان کی ضرورت پڑتی ہے۔تحقیق دانوں نے بچوں میں دیر سے بولنے اور بات کرنے میں دقت محسوس کرنے کا الزام گھروں میں الیکڑونک مصنوعات کے بڑھتے ہوئے استعمال کو دیا ہے۔

اسکرین بیسڈ الیکٹرونک مصنوعات کو ہر بچے والے گھر میں ایک سستے ‘بے بی سٹر’ کی حیثیت حاصل ہے، جہاں بچوں کو گھنٹوں ٹی وی، کمپیوٹر، ویڈیو گیم کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ مگر اْن کا حد سے بڑھتا ہوا استعمال بچوں کے معصوم ذہنوں پر اثر انداز ہو رہا ہے، خصوصاً کمسن بچے جن کے سیکھنے کے لیے ابتدائی دو سال بہت اہم ہوتے ہیں۔

تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ والدین بچے کی دو برس کی عمر ہوجانے تک اس کے بولنے یا باتیں کرنے کا انتطار کرتے ہیں اور اس کے بعد ہی وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کسی ماہر زباں دان سے مشورہ کرتے ہیں۔

بیٹر کمیونیکیشن ریسرچ پروگرام کے نام سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کلاس میں بات چیت کرنے میں دقت محسوس کرنے والے بچے جن کی عمریں پانچ سے16 سال کے درمیان ہے، ان کی تعداد ایک لاکھ پینتیس ہزار سات سو ہے۔یعنی، سال 2005 ء سے سال 2011ء کے درمیانی عرصے میں ان کی تعداد2.2 فیصد بڑھی ہے۔

اس تحقیق میں صرف ایسے بچوں کو شامل کیا گیا ہے جنھیں اسکول میں باقاعدہ زبان کی مشقیں کرائی جاتی ہیں۔لندن کے ایک پرائمری اسکول’ریورلی’ کی ہیڈ ٹیچر نے وی او اے کو بتایا کہ، ‘پری اسکول شروع کرنے والے زیادہ تر بچوں کو بات کرنا نہیں آتی۔ بلکہ انھیں ایک جملہ بولنے کے لیے الفاظ جوڑنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ لہذا، ایسے بچوں کو اسکول میں زبان کی مشقیں کرائی جاتی ہیں، جبکہ ان بچوں میں سیکھنے کا عمل بھی عام بچوں کی نسبت سست ہوتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک ابتدا میں بچے کے گھرکا ماحول اسے زبان سیکھنے میں مدد فراہم کرتا ہے،جس میں بچے کے ساتھ ماں کا برتاؤ، اہل خانہ کا بچے کے ساتھ لگاؤ اور گھر کا سماجی ماحول شامل ہے۔

برطانیہ کی ایک فلاحی تنظیم ‘ آئی کین’ نے اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں میں دیر سے بات شروع کرنے کے مسئلے کی کئی اور وجوہات بھی ہیں جنھیں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ مثلا بچے کی مخصوص ذہنی کیفیت، عادت اور اس کے اطراف کا ماحول بھی بچے کی بولنے کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

کام پر جانے والے والدین جن کے پاس بچوں کے ساتھ پارک جانے یا سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے وقت نہیں ہوتا وہ خود کو سماجی حلقے کی گہماگہمی سے دور کرلیتے ہیں۔ان تھکے ماندے والدین کے پاس بچوں کو دینے کے لیے وقت کم ہوتا ہے

۔ایسی صورتحال میں، بچوں کو ٹی وی پر ان کا پسندیدہ کارٹون شو کئی کئی گھنٹے دکھایا جاتا ہے۔اسی طرح کچھ والدین اپنے سات آٹھ سال کے بچوں کے ہاتھوں میں ویڈیو گیم اور اسمارٹ فون تک تھما دیتے ہیں۔

لہذا، تنہائی کے زیراثر پلنے والے بچے بڑے ہونے کے بعد بھی بات چیت کرنے میں گھبراہٹ محسوس کرتے ہیں۔اسی طرح بچوں والے گھروں میں مل کر دستر خوان پر کھانا کھانے، سردیوں کی راتوں میں ایک ہی کمرے میں جمع ہو کر لوڈو یا کیرم کی بازیاں کھیلنے جیسی خاندانی روایات بھی ختم ہوتی جارہی ہیں۔
ڈان نیوز

About the Author: Editor
Visit 171 Other Articles by Editor >>
Comments
Add Comments
Name
Email *
Comment
Security Code *


 
مزید مضامین
یا دداشت تیزکر نا ہے تو نیند پو ری کریں،تحقیقی رپورٹ ایک حالیہ سا ئنسی تحقیق کے مطا بق نیند کی کمی یا دداشت پر اثر انداز ہو تی ہے اور بہتر حا فظے کے لیے نیند پو ری کر نا نہایت اہم ہے ۔ امریکہ میں کی گئی اس تحقیق کے مطا بق اسکو ل جانے والے وہ بچے جو رات کی .... مزید تفصیل
’دماغ سے روبوٹک بازو کا کامیاب کنٹرول‘ امریکہ میں سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے عام انسانی دماغ کی مدد سے کنٹرول کیے جانے والے روبوٹک بازو کی تیاری کے سلسلے میں اب تک کے بہترین نتائج حاصل کیے ہیں۔ طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہونے والے .... مزید تفصیل
خلائی سروے سے اہرام کی دریافت خلاء سے مصر کے تازہ سروے سے سترہ گمشدہ اہرام اور ایک ہزار سے زیادہ مقبروں کا پتا چلا ہے۔ یہ تحقیق ایک امریکی لیباٹری نے ناسا کی معاونت سے کی ہے۔ اس تحقیق میں انتہائی طاقت ور انفرا ریڈ لہروں سے عکس .... مزید تفصیل